بنگلورو۔12؍نومبر(ایس او نیوز؍صدیق آلدوری) سماجی محرک وجنگ آزادی کے مجاہد اے ٹی رام سوامی نے آج مرکزی حکومت سے کہاکہ حکومت نے ملک میں کالے دھن کو بے نقاب کرنے اور اس پر روک لگانے صرف نئے نوٹ جاری کرنے کے بعد خاموش نہ رہے۔ بلکہ آئندہ ملک میں جعلی نوٹ تیارنہ ہوں اس سلسلہ میں بھی سخت انتظامات کرے اور ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے۔ اے ٹی رام سوامی کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کمیٹی نے12اہم نکات پر مشتمل ایک قرار داد وزیراعظم مودی کو روانہ کی تھی۔ اے ٹی رام سوامی نے کہا ہے کہ حکومت نے ان کی درخواست پر توجہ دے کر کالا دھن پر روک لگانے یہ ایک اہم قدم اٹھایاہے جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں یہ ایک انقلابی قدم ہے۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈ کر نے اپنی کتاب پرابلمس آف رُپیس میں مشورہ دیاتھا کہ حکومت ہر20سال میں ایک مرتبہ ملک میں نوٹوں کی تبدیلی کرے، اس اقدام سے ملک میں کالا دھن جمع نہ ہونے پائے گا۔ ہمارے ملک کی مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ وقفہ وقفہ سے نوٹ بدلتی رہے۔بیرونی ممالک میں جتنا بلیک منی ہے اس سے کئی گنا زیادہ کالا دھن ملک کے اندر بھی موجود ہے۔ دنیا بھر میں کالادھن جمع کررکھنے والے ممالک کی فہرست میں ہندوستان کو چوتھامقام حاصل ہے۔ ایک سروے کے مطابق ملک میں20فیصد جعلی نوٹ چلن میں ہیں۔انتخابات اور کالے دھن میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کالادھن ملک کی جمہوریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس لعنت کی وجہ سے غریب افراد کو ملک میں آج بھی پریشانیوں سے نجات نہیں ملی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ہندوستان میں کئی ایسے افراد موجود ہیں جن کی ماہانہ آمدنی5ہزار تا10ہزار روپئے تک ہے لیکن حکومت نے ان افراد کی پریشانی محسوس نہیں کی ہے۔اور ملک میں 500اور1000 کے نوٹ بدل کر 2ہزار روپئے مالیت کے نئے نوٹ چھاپے ہیں جس سے غریب افراد کو پریشانی ہوگی۔حکومت کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں100روپئے کے نوٹ بھی تیار کرے جن کے پاس کالا دھن تھا انہیں اب اچانک غریبوں اور اپنے رشتہ داروں سے ہمدردی پیداہوگئی ہے اور انہیں اپنے پاس موجود کالے دھن سے500اور1000کے نوٹ دے کر ان سے ہمدردی جتارہے ہیں اس معاملہ میں محکمہ انکم ٹیکس کو کڑی نظر رکھنی ہوگی۔